دیہات میں جمعہ اور احتیاطی ظہر

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے علاقے کے دیہاتوں میں جامع مسجد بنا کر جمعہ کی نماز قائم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یہاں ایک عالم صاحب کہتے ہیں کہ جمعہ کے بعد احتیاطاً ظہر کی نماز جماعت ہی کے ساتھ پڑھنی ہوگی ، ورنہ سب گنہ گار ہوں گے۔ تو کیا عالم صاحب کا کہنا صحیح ہے؟ کیا واقعی جمعہ کے بعد احتیاطاً ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھنے سے سب لوگ گنہ گار ہوں گے؟ اگر ایسا ہے تو اب تک کسی عالم نے کیوں نہیں بتایا ؟ امید کہ حوالہ اور حوالہ کی عبارتوں کے ترجمہ کے ساتھ جواب باصواب سے نوازیں گے۔

المستفتی (مولانا) معین الدین
مقام بمہواں ، رائے گنج ضلع اتر دیناج پور ( بنگال )

الجواب بعون الملك الوهاب

مذہب احناف میں جمعہ صحیح ہونے کے لیے شہر یا فناے شہر شرط ہے۔
ہدا یہ ج ۱ ص ۱۴۸ میں ہے:

لا تصح الجمعة الا في مصر جامع أو في مصلى المصر الخ :
ترجمہ : جمعہ کی صحت کے لیے شہر یا فنائے شہر ضروری ہے۔

مگر شہر کسے کہیں گے ؟ شریعت نے اپنی طرف سے اس کی کوئی تحدید نہیں فرمائی ہے ، بلکہ عرف قدیم پر چھوڑ دیا ہے۔ امام اعظم سے مروی ظاہر الروایہ، یہ ہے کہ شہر وہ وسیع وعریض مقام ہے جس میں سڑکیں، بازار، ہوٹل اور ایسا حاکم ہو جواپنی شوکت اور اپنے یا دوسرے کے علم سے مظلوم کو انصاف دلا سکے۔ اس روایت کی بنیاد پر جہاں یہ صورت نہ ہو، وہاں جمعہ صحیح نہیں، پڑھ لیں تو بھی فرضِ ظہر ساقط نہیں ہوگا اور جماعت واجب ۔
مگر نوادر میں امام ابو یوسف سے مروی ایک روایت یہ ہے کہ جس جگہ اتنے عاقل ، بالغ ، تندرست مرد جن پر جمع فرض ہو، آباد ہوں ، کہ وہ لوگ اگر وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سماسکیں صحت جمعہ کے لیے شہر ہے۔
عنایہ شرح ہدایہ، ج: ۲، ص: ۵۱ میں ہے:

عن أبي يوسف (أنهم اذا اجتمعوا) أي اجتمع من تجب عليهم الجمعة لا كل من يسكن في ذلك الموضع من الصبيان والنساء والعبيد. قال ابن شجاع: أحسن ما قيل فيه اذا كان أهلها بحيث لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم ذلك حتى احتاجوا الى بناء مسجد آخر۔
ترجمہ : امام ابو یوسف کی ایک روایت ہے کہ جس جگہ وہاں کے رہنے والے ایسے لوگ، جن پر جمعہ فرض ہے، اکٹھے ہوں، تو وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں نہ سمائیں، وہ جگہ صحت جمعہ کے لیے شہر ہے ۔ ابن شجاع نے فرمایا : اس سلسلہ میں سب سے اچھی بات یہی ہے کہ جس جگہ وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمعہ کے مکلفین جمع ہو جائیں تو نہ سما سکیں ، اور انہیں دوسری مسجد بنانے کی حاجت پیش آجائے وہ جگہ صحت جمعہ کے لیے شہر ہے۔

ہر چند کہ کسی حکم کا ظاہر الروایہ میں ہونا ترجیح کا مقتضی ہے لیکن اگر کبھی اس کے مطابق عمل کرنے میں دینی خرابی لازم آئے ، یا وہ شرعی مصلحت کے خلاف ہو، یا تعامل اس کے برخلاف ہو، تو ترجیح ، اس کے برخلاف نوادر کی روایت ہی کو ہوگی ، اور فتوی اسی نوادر کی روایت پر ہوگا۔
امام احمد رضا، فتاوی رضویہ مترجم ، ج: ١ ،ص: ۱۱۰ میں فرماتے ہیں:

مراعات المصالح الدينية الخالية عن مفسدة تربو عليها ودرء المفاسد والأخذ بالعرف والعمل بالتعامل، كل ذلك قواعد كلية معلومة من الشرع، ليس أحد من الأيمة الا مائلاً اليها وقائلاً بها ومعولاً عليها، فاذا كان في مسئلة نص الامام ثم حدث أحد تلك المغيرات، علمنا قطعاً أن لو حدث على عهده لكان قوله على مقتضاه، لا على خلافه ورده، فالعمل ح بقوله الضرورى الغير المنقول عنه هو العمل بقوله لا الجمود على المأثور من لفظه۔
ترجمہ : ایسے مصالح دینیہ کی رعایت جو زیادہ مفاسد سے خالی ہوں اور مفاسد کو دور کرنا ، عرف کو اختیار کرنا اور تعامل پر عمل کرنا، یہ ایسے شرعی قواعد کلیہ ہیں جو سب کو معلوم ہیں ۔ ائمہ یا تو ان کی طرف مائل ہیں یا ان کے قائل ہیں ، یا ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ اگر کسی مسئلہ میں امام کی نص موجود ہو، اور پھر یہ مغیرات پائے جائیں تو ہم قطعی طور پر یہ جان لیں گے کہ اگر یہ امور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے عہد میں ہوتے تو آپ کا قول ان کے مقتضا کے مطابق ہی ہوتا، بر خلاف نہیں۔ لہذا ان صورتوں میں امام کے ضروری قول جو آپ سے منقول نہیں، اس پر عمل کرنا در حقیقت آپ ہی کے قول پر عمل کرنا ہے، نہ کہ آپ سے منقول قول پر جمے رہنا۔

یہی وجہ ہے کہ اصل مذہب کے مطابق امامت کرنے ، اذان دینے اور قرآن پڑھانے کی تنخواہ لینا ، وعظ و تقریر کے لیے نذرانہ کے نام پر اجرت لینا نا جائز ہے، مگر علماے متاخرین نے اس کے جواز کا فتوی دیا ہے، اور آج سب کا عمل اسی پر ہے۔ پھر تنخواہ ہی نہیں ، اس کے ساتھ کھانے کی شرط بھی جو مجہول ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے، مگر عرف و تعامل کی وجہ سے اس کے بھی جواز کا فتوی ہے۔ اور آج گھریلو ملازم سے لے کر مؤذن و امام ، مدرس و مفتی اور واعظ و مقرر ، سب کے سب ایک مقررہ رقم کے علاوہ کھانے کے عوض ہی ملازمت کرتے ہیں ۔

اصل مذہب میں میت کے ساتھ جاتے ہوئے خاموش رہنے کا حکم ہے، مگر مصلحت شرعی کی وجہ سے ہی امام احمد رضا نے خود اپنے جنازہ میں صلاۃ وسلام پڑھنے کی اجازت دی تھی۔
ان ہی وجوہات کی وجہ سے علماے متاخرین کی ایک جماعت نے نماز جمعہ وعیدین کے لیے بھی ظاہر الروایہ کی بجائے امام ابو یوسف کی روایت نادرہ پر فتوی دیا ہے۔
بحر الرائق ، ج: ۲، ص: ۲۴۷، مطبوعہ: دار الکتب العلمیہ میں ہے:

عن أبي يوسف أنه ما اذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم وعليه فتوى أكثر الفقهاء. وقال أبو شجاع: هذا أحسن ما قيل فيه. وفي الولوالجية: وهو الصحيح۔
ترجمہ : امام ابو یوسف کی ایک روایت یہ ہے کہ : جس جگہ پنج وقتہ نمازوں کے لیے بنائی گئی سب سے بڑی مسجد میں سارے مکلفین یکجا ہوں ، تو وہ مسجد ان کے لیے نا کافی ہو جائے ، وہ جگہ صحت جمعہ کے لیے شہر ہے، اور اسی پر اکثر فقہا کا فتوی ہے۔ ابن شجاع نے فرمایا: اس سلسلہ میں یہ سب سے اچھی بات ہے۔ فتاوی ولوالجیہ میں ہے کہ یہی صحیح ہے۔
علامہ محبوبی نے وقایہ میں اسی قول کو اختیار فرمایا چنانچہ لکھا ہے :

وما لا يسع أكبر مساجده أهله، مصر ۔ترجمہ : شہر وہ جگہ ہے جہاں کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے مکلفین نہ سمائیں ۔

اس کے شارح علامہ عبد اللہ بن مسعود بن تاج الشریعہ نے شرح وقایہ ج ا،ص ۲۴۲ میں فرمایا ہے :

وانما اختار هذا القول دون التفسير الأول؛ لظهور التوانى فى أحكام الشرع، الخ.
ترجمہ : ماتن نے پہلی تفسیر کی بجاے اس قول کو اپنایا؛ کیوں کہ احکام شرع کی بجا آوری میں لوگ سستی کرنے لگے ہیں۔

علامه غزی تمرتاشی نے تنویر الابصار میں فرمایا :

و يشترط لصحتها سبعة أشياء الأول: المصر، وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها
ترجمہ : جمعہ صحیح ہونے کے لیے سات شرطیں ہیں: پہلی شرط : شہر ہونا ہے یعنی جہاں کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے مکلفین نہ سمائیں ۔

اس پر صاحب در مختار نے فرمایا :

وعليه فتوى أكثر الفقهاء، مجتبي. لظهور التواني في الأحكام.
ترجمہ : احکام شرع کی بجا آوری کے تعلق سے لوگوں میں سستی آجانے کے سبب اکثر فقہا کا فتوی اسی قول پر ہے۔

علامہ ابن عابدین شامی نے اپنے حاشیہ رد المحتار، کتاب الصلاۃ ، ج ۳ ص : ۵ میں فرمایا:

قوله: (وعليه فتوى أكثر الفقهاء الخ)
وقال أبو شجاع: هذا أحسن ما قيل فيه۔ وفى الولوالجية: وهو الصحيح. وعليه مشى في الوقاية ومتن المختار وشرحه وقدمه في متن الدرر على القول الآخر، وظاهره ترجيحه وأيده صدر الشريعه بقوله: لظهور التواني في أحكام الشرع.
ترجمہ : ماتن کے ارشاد اسی پر اکثر فقہا کا فتوی ہے“ کے تعلق سے ابو شجاع نے فرمایا ہے کہ اس سلسلے میں یہ سب سے اچھی بات ہے ۔ ولوالجیہ میں ہے کہ یہی قول صحیح ہے، وقایہ متن مختار اور اس کی شرح میں اسی قول کو اپنایا ہے، درر کے متن میں اسی قول کو پہلے بیان کیا ہے جس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے اس کو ترجیح دی ہے۔ اور صدر الشریعہ نے یہ فرما کر ” کیوں کہ آج کل احکام شرعیہ پر عمل کے سلسلے میں لوگ سستی برتنے لگے ہیں” اسی قول کی تائید کی ہے۔

امام احمد رضا نے ظاہر الروایہ پرفتوی دینے کے باوجود، امام ابو یوسف کی روایت کے تعلق سے فتاوی رضویہ مترجم، ج: ۸ ، ص: ۳۴۷ میں فرمایا :

”ہاں! ایک روایت نادرہ پر امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہے کہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہو سکے آباد ہوں کہ اگر وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سماسکیں ، یہاں تک کہ انہیں جمعہ کے لیے مسجد جامع بنانی پڑے ، وہ صحت جمعہ کے لیے شہر بھی جائے گی ۔۔۔۔۔ جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے ، اس میں اس روایت نادرہ کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں، اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے۔ مگر اسے بھی ایک جماعت متأخرین نے اختیار فرمایا۔”

الغرض! جب اس روایت نو ادر کو بھی متاخرین نے ترجیح و فتوی سے مزین کیا ہے، تو اس کے مطابق جہاں جمعہ صحیح ہو، وہاں جمعہ قائم کر نا بھی صحیح ہوگا۔
پھر بھی کسی کو یہ شبہ ہو کہ جب ظاہر الروایہ کی بنا پر ایسی جگہوں میں جمعہ صحیح نہیں ، اور روایت نادرہ مزین بہ ترجیح و فتاواے متاخرین پر جمعہ صیح ہے ، تو صحت جمعہ میں شک پیدا ہو گیا، اس لیے احتیاطاً ظہر کی چار رکعت فرض بھی پڑھی جائے ، اور جماعت سے پڑھی جائے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ عوام کو تو اس احتیاطی ظہر کی اطلاع دینا بھی منع ہے، نہ کہ جماعت سے پڑھنے کا حکم دینا؛ کیوں کہ ان کے لیے اس میں عظیم مفاسد ہیں ۔
رد المحتار، ج: ۳، ص: ۱۷ ، مکتبہ اشرفیہ میں ہے:

ان أدى الى مفسدة لا تفعل جهاراً، والكلام عند عدمها، ولذا قال المقدسي: نحن لا نأمر بذلك أمثال هذه العوام، بل ندل عليه الخواص ولو بالنسبة اليهم اهـ
ترجمہ : احتیاطی ظہر پڑھنے کا حکم اس وقت ہے جب ایسا کرنا مفسدہ کی طرف مودّی نہ ہو۔ مفسدہ کی طرف مؤدّی ہو تو کھلم کھلا نہ پڑھے، اسی وجہ سے علامہ مقدسی نے فرمایا ہے : ہم عوام کو اس کا حکم نہیں دیتے ہیں، صرف خواص کو بتاتے ہیں۔
مراقی الفلاح مع الحواشی الطحطاویہ ص: ۵۰۶ میں ہے :

بفعل الأربع مفسدة اعتقاد الجهلة عدم فرض الجمعة، أو تعدد المفروض في وقتها، ولا يفتى بالأربع الا للخواص، و يكون فعلهم اياها في منازلهم اهـ.
ترجمہ :جمعہ پڑھنے کے بعد احتیاطاً چار رکعت ظہر پڑھنا جاہلوں کے فساد عقیدہ کا باعث ہوگا؟ کہ یا تو وہ جمعہ کو فرض نہیں سمجھیں گے، یا ایک ہی وقت میں جمعہ و ظہر دونوں کو فرض قرار دیں گے۔ اس لیے ہم چار رکعت احتیاطی کا فتوی صرف خواص کے لیے دیتے ہیں، کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں پڑھیں ۔

طحطاوی علی المراقی ص : ۵۰۷ میں علامہ مقدسی کے حوالے سے منقول ہے :

انما نهى عنها اذا أديت بعد الجمعة بوصف الجمعة والاشتهار، ونحن لا نقول به، ولا نفتي بفعلها أصلاً ، بل ندل عليه الخواص الذين يحتاطون الأمر دينهم، و يتركون ما ير يبهم الى تحصيل يقينهم اهـ.
ترجمہ : ممانعت تو جمعہ کی نیت سے جمعہ پڑھ لینے کے بعد اعلانیہ احتیاطی ظہر پڑھنے کی ہے ، ہم نہ اس کے قائل ہیں، اور نہ ایسا کرنے کا فتوی دیتے ہیں۔ صرف ان خواص کو بتاتے ہیں جو اپنے دینی معاملوں میں احتیاط برتتے ہیں، اور یقین کے حصول میں شک پیدا کرنے والی چیزوں سے احتراز کرتے ہیں۔

عوام جو صحیح نیت پر قادر نہ ہوں، ان کے تعلق سے امام احمد رضا علیہ الرحمہ، فتاوی رضویہ مترجم ، ج:۸، ص: ۲۸۱ میں فرماتے ہیں :
"یا ان رکعات کے باعث راساً جمعہ کو غیر فرض، یا جمعہ کے دن دونماز میں فرض سمجھنے لگیں گے۔ انہیں ان رکعات کا حکم نہ دیا جائے ، بلکہ ان کی ادا پر مطلع نہ کیا جائے کہ مفسدۂ اشد و اعظم کا دفع آکد و اہم ہے۔ ان کے لیے اسی قدر بس ہے کہ بعض روایات واقوال ائمہ مذہب پر ان کی نماز صحیح ہو جائے ۔
ص: ۲۹۴ پر مزید فرماتے ہیں:
ایسی تصحیح نیت نرے جاہلوں کو ذرا دشوار ہے۔ اور ان سے یہ بھی اندیشہ کہ اس کے سبب کہیں یہ نہ جاننے لگیں کہ جمعہ سرے سے خدا کے فرضوں میں ہی نہیں ، یا سمجھنے لگیں کہ جمعہ کے دن دوہرے فرض ہیں ، دورکعتیں الگ، چار رکعتیں الگ۔ اسی لیے علما نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ان رکعتوں کا حکم نہ دیا جائے ۔ ان کے حق میں یہی بہت ہے کہ بعض روایات پر ان کی نماز ٹھیک ہو جائے ، انہیں ایسی احتیاط کی حاجت نہیں ۔
ہاں ! خواص احتیاطاً ظہر کی چار فرض رکعتیں اس طرح پڑھ لیں کہ عوام کو اطلاع نہ ہونے پائے۔
علامہ ابراہیم حلبی ، غنیہ شرح منیہ ص: ۵۵۲ میں فرماتے ہیں :

في كل موضع وقع الشك في جواز
الجمعة ينبغي أن يصلى أربع ركعات.
ترجمہ : جہاں جمعہ کے جواز میں شک ہو وہاں چار رکعتیں پڑھ لینا مناسب ہے۔
فتح القدير ، ج:۲، ص: ۵۱ ، مکتبہ اشرفیہ میں ہے:

واذا اشتبه على الانسان ذلك ينبغى أن يصلى أربعاً بعد الجمعة ينوى بها آخر فرض أدركت وقته ولم أؤده بعد، فان لم تصح الجمعة وقعت ظهره،وان صحت كانت نفلا۔
ترجمہ : کسی آدمی کو جمعہ کی صحت میں شبہ ہو تو اس کے لیےمناسب ہے کہ چار رکعتیں اس نیت سے پڑھیں کہ وہ آخری فرض جس کا وقت مجھے ملا مگر میں نے نہیں پڑھی اس صورت میں جمعہ صحیح نہ ہوا تو وہ ظہر میں محسوب ہو جائے گی اور جمعہ صحیح ہو گیا تو نفل ہو جائے گی۔

مگر یہ رکعتیں جماعت سے نہیں، تنہا تنہا اس طرح پڑھی جائیں گی کہ عوام کو اطلاع نہ ہو ۔ جیسا کہ رد المحتار کے حوالے سے یہ عبارت : "لا تفعل جهاراً " اور مراقی الفلاح کے حوالے سے یہ عبارت: ” يكون فعلهم اياها في منازلهم” گزری۔
فتاوی رضویہ مترجم ، ج: ۸ ، ص : ۳۱۰ میں ہے :

یہ فرض احتیاطی بہ جمات نہیں ہوتے، منفرداً بہ نیت آخر ظہر پڑھے جاتے ہیں۔ وہ بھی صرف خواص کے لیے عوام کو نہ بتائے جائیں ، نہ انہیں حاجت۔“
استفتا میں جس عالم کے حوالے سے کچھ باتیں درج کی گئی ہیں اگر وہ باتیں صحیح ہوں ، تو بے چارے شرعی معنی میں عالم نہیں ہوں گے۔ شرعی معنی میں عالم تو وہ ہے جو عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو، اور مستقل ہو، اور اپنی ضروریات کو کسی کی مدد کے بغیر کتاب سے نکال سکے، جیسا کہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے الملفوظ، ج:۱، ص: ۵۸ ، المکتبۃ المدینہ میں فرمایا ہے :
ہاں ! عرفی معنی میں عالم کہلاتے ہوں گے؟ کہ عرف میں مدرسہ سے فارغ ہر مولوی کو عالم کہا جاتا ہے۔ امام احمد رضا فرماتے ہیں:
آج کل درسی کتابیں پڑھنے پڑھانے سے آدمی فقہ کے دروازے میں داخل نہیں ہوتا ، نہ کہ واعظ جسے سوائے طلاقت لسان، کوئی لیاقت، جہاں درکار نہیں ( ج : ۱۰ ص: ۴۴۲)
مزید فرماتے ہیں :
سند کوئی چیز نہیں، بہترے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی ، ان کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سند یافتوں میں نہیں ہوتی علم ہونا چاہیے۔ اور علم الفتوی، پڑھنے سے نہیں آتا ، جب تک مدتہا کسی طبیب حاذق کا مطب نہ کیا ہو۔ مفتیان کامل کے بعض صحبت یافتہ ، کہ ظاہری درس و تدریس میں پورے نہ تھے، مگر خدمت علماے کرام میں اکثر حاضر رہتے اور تحقیق مسائل کا شغل ان کا وظیفہ تھا، فقیر نے دیکھا ہے کہ وہ مسائل میں آج کل کے صد با فارغ التحصیلوں ، بلکہ مدرسوں، بلکہ نام کے مفتیوں سے بدر جہا زائد تھے۔“

(فتاوی رضویہ مترجم ، ج : ۲۳، ص: ۶۸۳)
اسی لیے فقہا فرماتے ہیں :

من حفظ جميع كتب أصحابنا لا بد له أن يتلمذ للفتوى حتى يهتدى.
ترجمہ : ہمارے اصحاب کی تمام کتابیں حفظ کر لینے کے بعد بھی ٹریننگ ضروری ہے تا کہ صحیح فتوی دے سکے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے