انٹرویو-فقیہ النفس حضرت علامہ مولانا مفتی مطیع الرحمٰن

مناظر اعظم ہندوستان، خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند، فقیہُ النفس، حضرت مفتی محمد مطیع الرحمٰن مضطر رضوی دام ظلہ سے ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی پرسیڈینسی یونیورسٹی کلکتہ کی خصوصی ملاقات میں حضرت کی حیاتِ مبارکہ، علمی و فقہی خدمات اور بصیرت افروز افکار پر ایک جامع اور معلوماتی انٹرویو۔

ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :

حضرت پہلے تو آپ یہ فرمائیں کہ طبیعت کیسی ہے؟ کبھی کبھی جب حضرت کے علالت کی خبر سنتا ہوں تو طبیعت بیکل ہو جاتی ہے۔  اب جماعت اہل سنت کے چند ہی اشخاص بچے ہیں جن سے جماعت کا علمی وزن سلامت ہے۔ الحمد للہ! آپ کی شخصیت ممتاز اکابر اہل سنت میں شمار ہوتی ہے، اس لیے جماعت اہل سنت کے سنجیدہ اور ذمہ دار حضرات اپ کی صحت و تندرستی کے لیے ہمیشہ دعائیں کرتے ہیں۔

 حضرت فقیہ النفس:

 طبیعت !صورت ببیں حالت مپرس! احباب کی دعائیں ہیں کہ زندہ ہوں۔ مجھے الحمدللہ اب دنیا کی کوئی آرزو نہیں، کچھ دین کام جن کو میں اپنی بساط کے مطابق کرنا ضروری سمجھتا ہوں ادھورے یا باقی ہیں ذرا صحت مل جاتی اور وہ پورے ہو جاتے تو اس کے بعد مرنا اچھا لگتا۔

ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :

 آپ کا پورا نام، تاریخ ولادت اور خاندانی پس منظر؟

حضرت فقیہ النفس:

 خاندانی روایت کے مطابق 19ویں صدی کے وسط میں مضافات اجمیر سے دو شیخ صدیقی بھائیوں نے ترک وطن کر کے موجودہ بہار کے ضلع پرنیہ کے راجہ پسی لال کی عملداری موضع "ملہنا” جو مہاندی سے ڈیڑھ دو میل پورب میں بہ رہی تھی، اس میں بودو باش اختیار کی۔  30-40 سال کے بعد ندی نے رخ بدلا اور کٹاؤ ہوتے ہوتے ملہنا کے قریب پہنچ گئی، جس کی وجہ سے منتقل ہو کر دوسری جگہ جا کر بسنا ہوا۔  مگر ایک سال بعد ہی وہاں سے بھی منتقل ہونا پڑا۔  اسی طرح سال بسال منتقل ہوتے ہوئے گاؤں کے کچھ لوگ تو ندی سے پچھم طرف ہی بڑھ گئے اور ہمارے دادا محمد فدوی حسین اور ان کے بھائی بہادر حسین کی اولادیں ساتویں بار ندی سے پورب موضع "پچھلا” میں آکر بسے ہیں۔ محمد فدوی حسین کے دوسرے لڑکے محمد ایوب حسین کی شادی ضلع کولہا کے شیخ محمد عثمان کی چھوٹی لڑکی ہمیرا خاتون سے ہوئی۔  ان کے بطن سے دو لڑکے الحاج محمد حسیب الرحمن اور فقیر محمد مطیع الرحمن اور ایک لڑکی کوثری بیگم سبھی ہوئی۔  ہم سبھی بھائی بہنوں کی پیدائش یہاں کے عمومی رسم و رواج کے مطابق ہماری نانیہال موضع "کولہا” میں نانا شیخ محمد عثمان گھر ہوئی۔

ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :

آپ کی ابتدائی تعلیم کس طرح اور کہاں ہوئی؟

حضرت  فقیہ النفس:

الف با سے قرآن کریم، اردو قاعدہ، اردو کی تیسری کتاب، حساب میں ضرب و تقسیم تک کی تعلیم والد ماجد نے ہی گھر پر دی۔ آمد نامہ فارسی کی پہلی ، گاؤں کے مدرسہ میں پڑھی، پھر اسکول میں داخلہ ہوا تو بنگلہ کے حساب سے جو یہاں زیادہ تر عوام میں آج بھی رائج ہے، کسی سال کے آسن مہینہ کی کوئی تاریخ بتائی اور ہیڈ ماسٹر صاحب نے جوڑ کر جولائی ۱۹۵۱ء کی پندرہ تاریخ لکھ دی اور وہی تمام کاغذات پر لکھا جا رہا ہے جب کہ حساب سے بنگلہ سال کا آسن مہینہ اکتوبر کے مطابق ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :

 کیا یہ بات صحیح ہے کہ شروع میں آپ کے گھر اور علاقہ میں دیوبندی مولویوں کا آنا جانا تھا؟ اگر ہاں تو رجحان میں تبدیلی کیسے آئی؟

حضرت فقیہ النفس :

 "ملہنا“ چوں کہ موضع حفنیہ سے قریب واقع تھا۔ جہاں سید احمد رائے بریلوی کے خلیفہ مولانا کرامت علی جون پوری کی آمد ہوئی تو ہمارے دادا اور ان کے بھائی ان سے مرید ہو گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب نہ دیوبندیت کے نام سے کوئی فرقہ وجود میں آیا تھا اور نہ اہل سنت کا بریلوی کے نام سے کوئی تعارف تھا۔ مولانا کرامت علی کے بعد ان کے لڑکے مولانا اول کی آمد ورفت رہی۔ پھر یکے بعد دیگرے اسی سلسلے کے لوگ آتے رہے۔ یہ حضرات چوں کہ میلاد و قیام اور فاتحہ کومنع نہیں کرتے تھے، بلکہ خود بھی ان میں شریک ہو جایا کرتے تھے اس لیے اس سلسلے کے لوگوں میں آج بھی کم سے کم شادی بیاہ اور شب برأت کے موقع پر اس کا چلن باقی ہے۔

پہلی بار غالباً 1954 ء میں بستہ ڈانگی کے حضرت مولانا عبد الحمید رحمۃ اللہ علیہ جو صدر الشریعہ مولانا امجد علی مصنف بہار شریعت کے شاگرد تھے، انھوں نے کا نفرنس کی جس میں حضرت ملک العلما (شاگرد رشید امام احمد رضا)، محدث اعظم کچھو چھوی ( شاگرد امام احمدرضا) شیر بیشہ اہل سنت (مولانا حشمت علی خاں پیلی بھیتی) وغیرہ تشریف لائے تو لوگوں کو دیوبندیت اور بریلویت کا فرق سننے میں آیا۔ مگر اسے عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی۔

سب سے بڑے مقرر ”ملہنا” کے مولوی عبدالحکیم صمدانی مانے جاتے تھے، ان کو ہفتہ دس دن میں کہیں نہ کہیں چھوٹا بڑا جلسہ اور میلاد میں دعوت ہوتی تھی۔ ان کا مکان چوں کہ مہاندی سے پچھم تھا، جہاں بیل گاڑی کا پہنچنا دشوار تھا اس لیے وہ تاریخ مقررہ سے ایک دن پہلے ہی شام کے وقت ہمارے ہاں آجاتے اور دوسرے دن صبح ان کو لینے چلنے والوں کی بیل گاڑی آتی اور وہ جلسے میں جاتے۔ اسی طرح واپسی میں بھی کرتے ۔

ایک مرتبہ کسی چھٹی کے موقع پر میں گھر میں تھا تو موضع "نہراکول” کو علاقہ روٹا کے مولانا عبدالسلام علیہ الرحمہ جو ہمارے رشتہ داروں میں تھے، ہمارے ہاں آئے۔ ان کے پاس ایکی کتاب ” خون کے آنسو” جلد اول مصنفہ مولانا مشتاق احمد نظامی تھی۔ میں نے وہ کتاب پڑھی تو کسی طرح یقین نہیں آیا کہ جن کتابوں کے حوالوں سے اللہ و رسول کے بارے میں ایسی باتیں لکھی گئی ہیں، وہ علمائے دیو بند کی ہوں گی۔ میں نے جب ان احساسات کا اظہار مولانا عبد السلام مرحو سے کیا تو انھوں نے مجھ سے جوابی پوسٹ کارڈ پر اس مضمون کا استفتا لکھوا کر دارالافتا دیو بند ارسال کر دیا:

میرے دادا مرحوم مولانا محمد اول جون پوری کے مرید تھے، ان کے پاس کتابوں میں تقویت الایمان مصنفہ مولانا اسماعیل شہید، صراط مستقیم ، براہین قاطعہ اور حفظ الایمان بھی تھی۔ ابھی ایک دور کے رشتہ دار ہمارے یہاں آئے اور ان کتابوں کو پڑھا تو کہنے لگے کہ یہ کتابیں جعلی معلوم ہوتی ہیں۔ ہو سکتا ہے بریلویوں نے خود سے لکھ کر ہمارے بزرگوں کے نام سے چھپوادی ہوں، اس لیے ان کتابوں کو پڑھنا نہیں چاہیے اس سے ایمان خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کتابیں کیا صحیح میں جعلی ہیں؟ اور کیا ان کتابوں کو پڑھنے سے ایمان خطرے میں پڑ سکتا ہے؟

دس بارہ دن کے بعد اس مضمون کا جواب آیا لگتا ہے آپ کے وہ رشتہ دار بریلوی ہیں ورنہ ان کتابوں کے مطالعے سے ایمان میں خطرہ کی بات نہیں کہتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کتابوں کے مطالعے سے ان شاء اللہ ایمان پختہ ہوگا، بلاشبہ وہ کتابیں ہیں۔ ہمارے انھیں بزرگوں کی ہیں جن کے نام سے چھپی۔

میں یہ جواب لے کر مولانا مرحوم کے گھر "نہراکول” پہنچا تو انھوں نے دیوبند کے کسی مکتبہ کے نام ان کتابوں کا آرڈر مجھ کو املا کرا دیا اور میں نے وہ خط مکتبہ والے کو بھیج دیا۔ کوئی پندرہ دن بعد ڈاک سے وہ کتا بیں آگئیں۔ ملا کر دیکھا تو وہ ساری عبارتیں ان کتابوں میں موجود تھیں۔ مولانا عبد الحکیم صاحب تو ہمارے ہاں آتے جاتے ہی تھے، ان کے سامنے مسئلہ رکھا تو انھوں نے اپنے طور پر کچھ تاویلیں کیں مگر میں نے کہہ دیا کہ یہ عبارتیں اردو کی ہیں عربی کی نہیں اس لیے میں خود بھی سجھتا ہوں اور میں نے طے کر لیا کہ اب اسکول نہیں جاؤں گا، دیو بندی و بریلوی دونوں طرح کے مدرسوں میں پڑھ کر ان کی حقیقت جانوں گا۔ اس طرح میں مدرسہ میں آگیا۔

 پہلے میں مدرسہ محی الاسلام بجرڈیہ، بائسی جا کر حضرت مولانا تاج الدین رشیدی علیہ الرحمہ کے قاری پڑھی۔ پھر مولا نا عبد الحکیم صاحب کے مشورے سے والد صاحب نے دیوبندی مدرسه دارالعلوم لطیفی کٹیہار بھیج دیا۔ وہاں قریب ایک سال دیوبندی علما سے پڑھا۔ اس دوران ایک استاذ مولانا محمد قاسم نے ایک دن منطق کی کتاب ” کبری” کی بحث قیاس پڑھاتے ہوئے کہا: "محمد” (صلی اللہ علیہ و سلم) بھی انسان ہیں اور ہر انسان حیوان ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ محمد بھی حیوان ہیں۔ میں نے زور سے لاحول پڑھا۔ انھوں نے کہا: ” حیوان تو انسان کی ماہیت میں داخل ہے، جو حیوان نہ ہو وہ انسان ہی نہیں ہو سکتا، اسی لیے منطق کی تمام کتابوں میں لکھا ہے کہ ہر انسان حیوان ہے۔

میں نے کہا کہ منطق کی اصطلاح میں حیوان کے معنی جاندار کے ہیں اردو میں اس کے معنی جانور کے ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی مسلمان کیسے حیوان کہہ سکتا ہے؟ پھر ایک دوسرے مولانا جو نجم الہدی کے نام سے تھے، وہ مشکوۃ پڑھا رہے تھے۔ ایک دن انہی مولانا قاسم سے پوچھا ؟ ارے بھئی مشکاۃ کتنی پڑھا چکے؟

 مولانا نجم الہدی نے کہا: ” باب المعراج ختم ہونے کو ہے۔ بس عائشہ رہ گئی ہے، کل ان سے بھی نپٹ لوں گا اور دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ اب میرے لیے وہاں رہنا ممکن نہیں اور میں ماہ رجب ہی میں مدرسہ چھوڑ کر گھر آ گیا، پھر مولانا عبد السلام مرحوم کے مشورے سے شوال میں مراد آباد جامعہ نعیمیہ چلا گیا۔

ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :

 ابتدائی تعلیم کے بعد تعلیمی سفر کی تفصیلات اور فراغت سے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں؟

حضرت فقیہ النفس:

جامعہ نعیمیہ میں ایک سال پڑھا، اسی دوران حضور مفتی اعظم کی وہاں تشریف آوری ہوئی تو دوسرے بہت سے طلبہ کے ساتھ میں بھی داخل سلسلہ ہوگیا۔ دوسرے سال بریلی شریف آکر مظہر اسلام میں داخلہ لیا۔ یہاں ایک سال پڑھ کر سلطان پور جامعہ عربیہ آگیا اور امام علم فن سے فنون کی تعلیم کی اور لیا۔ عظم کی شعبان میں گھر آنے کے بجاے بریلی شریف حضور مفتی اعظم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا۔ وہاں دن میں امام احمد رضا کی دستیاب کتابیں مطالعہ کرتا، اس میں جو اشکالات ہوتے، وہ شارٹ ہینڈ میں لکھ لیتا ، اہل سنت کے خلاف دیو بندیوں کی کتا میں دیکھتا، ان کا جواب اپنے علم و مطالعہ سے سمجھتا، جو شبہات رہ جاتے ، ان کو ذہن نشین کر کے کبھی عشا سے پہلے ہی اور کبھی عشا کے اور بعد حضور مفتی اعظم کی خدمت میں حاضر ہوتا ۔ حضور اپنے معمول کے مطابق نشست گاہ پر تشریف رکھتے تو موقع پا کر ان اشکالات و شبہات کو حل کرا کر ۱۱، ۱۲ بجے قیام گاہ واپس آتا۔ عید کے بعد حضور والا کے اسفار شروع ہوئے تو مجھے خدمت میں رہنے کا م کر وہ انہیں ہوا۔ دار الافتاء میں کئی مفتیان کرام تھے، جن سوالات کے جوابات بہت مشکل ہوتے ، وہ حضرات مجھے دے دیتے کہ فرصت دیکھ  کر ان کے جوابات حضور سے لکھوا لوں! یہ فرصت اکثر ٹرین میں ہوتی، میں سوال سناتا اور حضور مفتی اعظم جواب املا کراتے، میں لکھتا اور حضور سے دستخط کرا کر سائل کو پوسٹ کر دیتا۔ سلطان پور میں رفقا درس لے رہے تھے ، بظاہر میری تعلیم کا ناغہ ہو رہا تھا،  اس لیے ہر سفر سے واپسی پر جانے کی اجازت طلب کرتا، تو ارشاد فرماتے

اچھا! فلاں دن فلاں جگہ جانا ہے وہاں سے لوٹنے کے بعد دیکھا جائے گا۔

میں سمجھ نہیں پایا کہ یہی ایام میری زندگی کے اصل ایام ہیں اور ایک دن صبح صبح سامان کے ساتھ خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ” حضور! میری تعلیم کا بہت ناغہ ہو رہا ہے، سلام اجازت دیں کہ سلطان پور چلا جاؤں۔ اس پر ارشاد فرمایا: ” اچھا فی امان اللہ!

 اور میں دست بوس ہو کر اسٹیشن کے لیے چل پڑا۔ مجھے اس بات کا بڑا صدمہ ہوا کہ اتنے دنوں خدمت میں رہا، مگر رخصت کے وقت دعا بھی نہیں دی۔ اسٹیشن پہنچ کر ٹکٹ خریدا اور تھوڑی ہی دیر میں ٹرین آگئی۔ جب ٹرین چل پڑی تو دیکھا کہ مفتی طاہر حسین اشرفی پورنوی جو وہاں دار الافتاء میں خدمت کر رہے تھے، بڑی تیزی سے پلیٹ فارم میں داخل ہوئے۔ میں شام کو سلطان پور پہنچا، دوسرے دن اسباق پڑھے، اور کھانا کھا کے سو گیا۔ کوئی ایک ڈیڑھ گھنٹہ گزرا ہو گا کہ ایک طالب علم نے جھنجھور کر اٹھا دیا کہ حضور مفتی اعظم تشریف لائے ہیں۔ میں حواس باختہ منھ دھوئے بغیر ہی کرتا پہن کر حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضور چار پائی پر تشریف فرما ہیں اور ارد گرد کرسیوں پر اساتذہ بیٹھے ہیں۔

 میں نے سلام کر کے دست بوسی کی تو فرمایا:

پتہ نہیں کل صبح کس سوچ میں تھا کہ آپ نے یہاں آنے کی اجازت مانگی اور میں نے اچھا فی امان اللہ کہہ دیا آپ کے روانہ ہو جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ آپ کو دکھ ہوگا کہ آپ نے اتنے دنوں میری خدمت کی اور میں نے اس وقت آپ کے لیے دعا نہیں کی، مولوی طاہر آئے تو ان کو اسٹیشن بھیجا کہ آپ کو واپس لائیں، مگر وہ پہنچے تو آپ کی گاڑی کھل چکی تھی، پھر دو اجنبی اشخاص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

 یہ دونوں حضرات کاٹھیا وار کے رہنے والے صدر الشریعہ کے مرید ہیں۔ کچھ دنوں سے ان کے دن اچھے نہیں چل رہے تھے، تو منت مانی تھی کہ دن اچھے ہو گئے۔ اور گاڑی خریدی تو مجھے بٹھا کر صدر الشریعہ کے مزار پر فاتحہ پڑھنے لے جائیں گے۔ اللہ تعالٰی نے ان کے دن اچھے کر دیے تو نئی گاڑی خریدی،

 کل دوپہر کو یہ لوگ بریلی آئے ہم لوگ گھوسی جا رہے ہیں جہاں کا راستہ فیض آباد ہو کر ہے، مگر سوچا کہ کل اپ کو بڑا صدمہ ہوا ہے معذرت کر لیں! اس لیے اتنا لمبا راستہ طے کر کے آنا ہوا، میں چاہتا ہوں کہ آپ ساتھ چلو اس طرح پھر میں ساتھ ہو لیا اور میری قسمت کے دن پھرے۔ اسفار کے دوران ہی حضور والا نے مجھے افتا کی تربیت دی اور بلا طلب اپنے دست مبارک سے "الولد الاعز” لکھ کر  قلمی سند مسلسل عطا فرمائی۔

ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :

 اپنے چند معروف اساتذہ کے نام بتائیں۔

 حضرت فقیہ النفس:

 تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم، امام علم و فن حضرت خواجہ مظفر حسین، حضرت مولانا الحاج مبین الدین امروہی  حضرت مولانا محمد یونس نعیمی، حضرت مولانا شیخ اللہ رشیدی، صدر العلماء حضرت مولانا تحسین رضا خان علیہم الرحمۃ والرضوان۔

ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :

 آپ نے سب سے زیادہ کن سے استفادہ کیا؟

حضرت فقیہ النفس

 تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم اور امام وفن حضرت خواجہ مظفر حسین علیھما الرحمہ

ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :

 آپ تو حضور مفتی اعظم کے مرید ہیں۔ حلقہ ارادت میں شامل ہونے کے احوال پر کچھ روشنی ڈالیں۔

حضرت فقیہ النفس:

 میں جامعہ نعیمہ میں زیر تعلیم تھا۔  وہاں علماء و مشائخ کی آمد ہوتی رہتی تھی۔  مگر ایک دن 10 بجے کے قریب دیکھا کہ رکشہ پر معمولی سی خادم کے ساتھ ایک نہایت بزرگ صورت شخصیت کی آمد ہوئی۔ نظر پڑتے ہی جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا محمد یونس نعیمی صدر مدرس اسے الحدیث حضرت مفتی حبیب اللہ صاحب

اور تمام اساتذہ اسباق چھوڑ کر دوڑ پڑے۔ پھر دو گھنٹے کے قریب ان کا قیام رہا، سارے حضرات تدریس چھوڑ کر فاصلے سے حلقہ بنائے سر جھکا کر بیٹھے رہے۔ ساتھیوں سے دریافت پر معلوم ہوا کہ یہ اعلیٰ حضرت کے بیٹے حضرت مفتی اعظم ہیں۔ بہت سے طلبہ مرید ہوئے۔ ایک تو اعلی حضرت کے شہزادے ہونے کا من کر، دوسرے ان کی نورانی صورت اور مرید کرنے کا انداز، خاص کر اہل سنت کے مسلک پر قائم رہنے، اور گمراہ فرقوں سے دور رہنے کا عہد کو دیکھ کر میں حد درجہ متاثر ہوا اور خود بھی داخل سلسلہ ہو گیا۔ اور اپنے گھر میں جو دیکھا تھا کہ مرید ہونے پر یا پیر کی آمد پر نذر پیش کی جاتی ہے اس کے مطابق میں نے پانچ روپے نذر کے پیش کیے تو آپ نے یہ کہتے ہوئے انکار فرما دیا کہ آپ طالب علم ہو، ابھی آپ ہی کو ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :

 آپ نے کہاں کہاں تدریسی خدمات انجام دیں؟ کہا جاتا ہے کہ آپ طویل عرصہ تک کسی مدرسہ میں وقت نہیں دیتے ۔ اس کا کوئی خاص پس منظر ؟

حضرت فقیه النفس :

 فراغت کے بعد سب سے پہلے حضرت مفتی رجب علی علیہ الرحمہ کے اصرار اور حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کے حکم پر مدرسہ عزیز العلوم نانپارہ۔ پھر امام علم وفن کے استاذ حضرت مولانا سلیمان اشرفی کے اصرار اور امام علم و کے اصرار اور امام علم و فن کے حکم پر حضور مفتی اعظم کی اجازت لے کر مدرسہ فیضیہ ایشی پور، ضلع تحظ بھاگلپور آ گیا۔ اس کے بعد والدہ ماجدہ کے حکم پر حضور مفتی اعظم کی اجازت سے مدرسہ کی الاسلام بجر ڈیہ، پورنیہ۔ جب حضرت امام علم وفن سلطان پور سے مدرسہ فیضیہ ایسی پور آگئے تو آپ کے حکم پر میں دوبارہ وہاں آگیا۔ اس کے بعد ادارہ شرعیہ پٹنہ، بہار، اس کے بعد مدرسه لطیفیہ خانقاہ رحمن پور کٹیہار ۔ پھر الادارة الاسلامیہ کھکر اکشن گنج ۔ اس کے بعد حضرت امام علم و فن کے تاکیدی حکم . قادریہ بدایوں ۔ پھر بر گڑھی ضلع مہراج پھر بر گڑھی ضلع مہراج گنج ۔ اس کے بعد مدرسہ کے بعد چره محمد پور ضلع فیض آباد۔ پھر دوبارہ ادارہ شرعیہ۔ اس کے بعد الجامعة الرضویہ پٹنہ۔ پھر مسجد بلال بنگلور ۔ پھر علی پور کلیا چک ضلع مالدہ ۔ آخری مرتبہ جونا گڑھ گجرات رہی طویل عرصہ تک کی

مدرسہ میں وقت نہیں دینے کی بات ! تو ماہنامہ "جام نور” دہلی کے ایڈیٹر مولانا خوشتر صاحب کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے جسے انھوں نے فروری ۲۰۰۴ء کے شمارے میں شائع کر دیا ہے۔ بار بار دہرانا اچھا نہیں لگتا ہے۔ جو صاحب چاہیں وہاں ملاحظہ فرمالیں :

میں (ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی :) ” جام نور میں شائع شدہ انٹرویو یہاں نقل کر دے رہا ہوں تا کہ جن حضرات کی نظر سے وہ انٹریو نہ گزرا ہو ، وہ اب پڑھ لیں۔

حضرت فقیہ النفس:

 آپ کا یہ سوال سنجیدہ بھی ہے اور خاصہ پر لطف بھی ۔ مجھے اس پر حافظ شیرازی کا مصرع یاد آ رہا ہے۔

 ع: کجا دانند حال ما سبکساران ساحلها – غالباً اس طرح کا خیال کرنے والے بیشتر وہ افراد ہیں، جو گورنمنٹ سے منظور شدہ مدارس میں ہیں اور حکومت سے تنخواہ پاتے ہیں کہ ملت کو کہیں اور کیسی ہی ضرورت کیوں نہ در پیش ہو، وہ وہاں نہیں جا سکتے۔ کیوں کہ یہاں کے فوائد انہیں وہاں حاصل نہیں ہو سکتے ، ورنہ ہمارے سامنے اکابر کی زندگیاںہیں، جو :

خنجر چلے کہیں پہ تڑپتے ہیں ہم امیر

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

کے مصداق تھے۔ حضرت محدث سورتی ، حضرت صدر الشریعہ، حضرت ملک العلماء وغیرہ کن کن بزرگوں کے نام لوں ۔ سبھی حضرات ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوئے اور دین کی ضرورتیں پوری فرماتے رہے۔ میں نے بھی کئی جگہ تبدیل کی ہے۔ ادارہ شرعیہ بہار ہی دو بار آیا، گیا ہوں ۔ سر دست وہیں پر آنے جانے کے اسباب کا تذکرہ کر دینا کافی ہو گا کہ:

ع ؔ

قیاس کن زگلستان من بہار مرا۔

 یہ غالباً ۱۹۷۸ء کی بات ہے۔ میں مدرسہ فیضیہ  ایشی پور، بھاگل پور میں تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا۔ ادارہ شرعیہ کے واحد مفتی و قاضی مولا نا فضل کریم صاحب، جو طول العمری اور شدید علالت کی وجہ سے تقریباً دو ماہ سے اپنے گھر ضلع سیتا مڑھی میں قیام پذیر ۔ زیر تھے، ان کے متعلق یہ خبر پھیل گئی کہ وصال فرما گئے۔ حالاں کہ یہ خبر غلط تھی ، وہ باحیات تھے۔ البتہ مرض کی شدت سے کبھی کبھی سکر کی سی حالت طاری ہو جاتی تھی۔ آپ سوچ نہیں سکتے کہ اس خبر سے بانی ادارہ حضرت علامہ ارشد القادری کی کیا کیفیت ہوئی ؟ وہ ہوش و حواس گم، افتاں و خیزاں سیتا مڑھی کے بجاے ایشی پور، بھاگل پور پہنچ گئے۔ درد بھرے دل اور ڈبڈبائی آنکھوں سے ادارہ شرعیہ میں میری ضرورت کا مجھے احساس دلایا اور امام علم و فن کو ساتھ لے کر مدرسہ کے ناظم اعلیٰ جناب صدیق صاحب سے بات کی۔ علامہ نے ادارہ شرعیہ کا قرار واقعی تعارف اور بروقت اس کی ضرورت کو بیان کر کے صدیق صاحب سے فرمایا: ادارہ شرعیہ پورے بہار کے اہل سنت کا مرکزی ادارہ ہے اور فیضیہ سمیت صوبہ کے سارے مدارس اس کے ذیلی ادارے ہیں۔ ہم مفتی صاحب کو فیضیہ سے مستقل طور پر نہیں لے جا رہے ہیں۔ ہنگامی حالات کے تحت ڈیپوٹیشن کے طور پر چلیں۔ انہیں فیضیہ ہی کے مدرس اور ڈیوٹیشن کے اصول پر تنخواہ بھی فیضیہ ہی ادا کرے۔ ادارے میں جوں ہی دوسرے آدمی کا انتظام ہو جائے گا۔ وہ واپس آجائیں گے۔“

حضرت علامہ کی ان باتون کا جواب صدیق صاحب بے چارے کیا دے سکتے تھے؟ مجبور ہو گئے اور مفت کی ادایگی تنخواہ سے بچنے کے لیے  مجھے فیضیہ کی خدمت سے سبک دوش کر دیا۔ اس طرح میں پہلی بار ادارہ شرعیہ پہنچا۔ پھر کچھ دنوں بعد قاضی فضل کریم صاحب بھی صحت یاب ہو کر آگئے۔

ابھی مجھے ادارہ شرعیہ کی خدمت کرتے ہوئے صرف یک سال  کچھ مہینے ہی ہوئے تھے کہ ایک نئی افتاد آپڑی ۔ غیر مقسم ضلع پورنیہ کے موضع رحمان پور میں مولانا حفیظ الدین رحمۃ اللہ علیہ کی قائم کردہ مشہور خانقاہ و مدرسہ ہے۔ مولانا موصوف مشرقی بہار کے وہ تنہا بزرگ ہیں، جو ۱۳۱۸ ھ میں پٹنہ کے اندر ندوہ کے خلاف منعقد شدہ اہل سنت کی ہفت روزہ عظیم کانفرنس میں شریک رہے تھے اور امام احمد رضا کو مجدد کا خطاب دیے جانے کی تائید فرمائی تھی ۔ آپ ہی کی نسل کا ایک فرد، جو بچپن میں گھر سے فرار ہو گیا تھا اور بد مذہبوں کے مدرسے میں جا کر تعلیم حاصل کر لی تھی ، وہ اپنی ہوشیاری اور صلح کل کی پالیسی سے مدرسہ اور خانقاہ پر قابض ہو گیا تھا۔ جس سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہاں کے متعلقین و منتسبین کے عقائد نہ بگڑ جائیں۔ اس لیے اس پورے علاقے کے علما اور عمائدین اہل سنت نے اس خانقاہ و مدرسہ کو واگزار کرنے کے لیے مجھے مجبور کیا۔ اس طرح میں ادارہ شرعیہ چھوڑ کر وہاں چلا گیا اور کئی سال کی مسلسل علمی، قانونی اور عملی جدو جہد کے بعد الحمد للہ ! مدرسہ و خانقاه واگزار ہو گئی ، تو اسے اسی خاندان کے سنی افراد کے ہاتھوں سونپ کر الگ ہو گیا۔

دوسری بار میں استاذ گرامی حضرت امام علم وفن مد ظلہ العالی کے زیر سایہ دار العلوم نور الحق فیض آباد میں تدریسی خدمت انجام دے رہا تھا کہ حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے ادارہ شرعیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے ملک بھر سے نمائندہ بہاری علما، دانشوران اور عمائدین اہل سنت کی جنرل میٹنگ بلائی۔ فیض آباد سے حضرت امام علم وفن کے جلو میں میں بھی حاضر ہوا۔ دو شبانہ روز کی بحث وتمحیص اور کامل غور و خوض کے بعد متعدد نئی کمیٹیوں کی تشکیل ہوئی۔

ممبر پارلیامنٹ مولانا عبید اللہ خان اعظمی، مجلس عاملہ کے صدر، مولانا محمد ایوب مظہر مہتمم ہوئے اور انہوں نے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد کیا۔ پورے صوبے میں بیداری لانے کے لیے اصلاح معاشرہ کا نفرنسوں کا انعقاد کیا جانا طے کیا گیا۔ ضلعی شاخوں کے قیام کا فیصلہ ہوا۔ افتا وقضا کی تربیت کے لیے نئے شعبے کے اضافہ کی تجویز ہوئی اور اس کے لیے حضرت علامہ کی تحریک پر سب نے بیک زبان میرے نام پر صاد کی۔ میں نے اپنی کم علمی اور بعض دوسری وجوہات کی بنا پر مسلسل انکار کیا، تو حضرت علامہ نے میری ایک نہیں سنی اور نہایت ہی رقت بھرے لہجے میں فرمایا:

مفتی صاحب! ادارہ شرعیہ کے قیام کا محرک اول اور بانی میں ضرور ہوں ۔ مگر اس کی بنا میں بقدرنصیبہ اس وقت کے سارے اکابر کا حصہ ہے۔  بالخصوص اہل سنت کے تاجدار اور آپ کے پیر و مرشد حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی عین مرضی کے مطابق ، انہیں کی حمایت کے سایہ میں اس کا قیام ہوا ہے۔ اگر حضرت کی توجہ خاص اور علمی وفکری سر پرستی ہمیں حاصل نہ ہوتی ، تو ہم ہرگز ادارہ شرعیہ کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔ مگر وائے ! ہماری محرومی و نامرادی کہ جن عظیم مقاصد کے لیے اس کا وجود ہوا تھا ، ان کی تکمیل تو کیا ہوتی ؟ اب کن کن کا گلہ کریں کہ صحیح معنوں میں اس طرف پیش قدمی بھی نہیں ہو سکی۔ میں اگر چہ اس وقت بھی جوان نہیں تھا۔ مگر اب تو عمر طبعی کی آخری منزلوں میں ہوں ۔ اس لیے اس کی باگ ڈور آپ جیسے جوانوں کے ہاتھوں میں دے کر اس کے اپنے اہداف کو پالینے کا دن دیکھنا چاہتا ہوں ۔ مگر آپ ہیں کہ کسی طرح تیار ہی نہیں ہوتے۔ تو کیا اس کے لیے آسمان سے کوئی آدمی جھکے گا یا پردہ غیب سے نمودار ہوگا ؟“

مولانا عبید اللہ خان اعظمی نے فرمایا:

مفتی صاحب ! اللہ تعالیٰ نے ہر کام کے لیے الگ الگ صلاحیتوں کے افراد پیدا فرمائے ہیں۔ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ آپ سے ہرگز نہیں ہوگا اور آپ جو کر سکتے ہیں، وہ ہم کسی طرح نہیں کر سکیں گے۔ لیکن ہم اور آپ مل جائیں گے، تو سب کچھ کیا جا سکے گا۔ آج ہم اور ہمارے رفقا ادارہ شرعیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنا خون تک دینے کو تیار ہیں ۔ کمی ہے، تو صرف ایک آپ کی طرف سے ۔ سن لیجیے ! اب خدا  نا کردہ ادارہ شرعیہ اپنے مقاصد کو پانے میں ناکام رہا، تو خدا کے یہاں صرف آپ جواب دہ ہوں گے۔

اس پر میں نے دار العلوم نور الحق فیض آباد کے سر پرست مولانا محمد حنیف صاحب بستوی مرحوم سے اپنے معاہدہ کی بات کی، تو حضرت علامہ اور مولانا عبید اللہ خان اعظمی نے ان سے اجازت دلوانے کا ذمہ اپنے سر لے لیا اور چند دنوں کے بعد حضرت علامہ کا پر زور تفصیلی خط لے کر مولانا عبید اللہ اعظمی مولانا حنیف صاحب سے ملے اور نہ جانے ان سے کیا کہا کہ مولانا مرحوم نے خوشی اور افسوس کے ملے جلے جذبات کے ساتھ مجھے اجازت دے دی۔ اس طرح میں ایک بار پھر ادارہ شرعیہ آگیا۔ مگر کیا عرض کروں کہ ابھی چند مہینے ہی ہوئے تھے کہ مولانا عبید اللہ اعظمی منصب صدارت سے مستعفی ہو گئے۔

سال تمام ہونے پر مولانا ایوب صاحب بھی اہتمام سے علاحدہ ہوئے اور میں پھر بھی تقریباً پانچ سال تک ادارہ کی خدمت کرتا رہا۔ یہ میری یہاں سے وہاں ہونے کی داستانیں ہیں۔ اگر اس طرح میرا منتقل ہونا جرم ہے، تو بے شیک میں نے جرم کیا ہے اور دانستہ کیا ہے۔ ع: شادم از زندگی خویش کہ کاری کردم ۔

ڈاکٹر سجاد عالم رضوی :

آپ کے چند معروف تلامذہ ، جن پر آپ کو اعتماد اور فخر ہو؟

حضرت فقیہ النفس :

 بعض حضرات ظاہری طور پر وقت سے پہلے وفات پاگئے ہیں، بیشتر کو خدا نے باحیات رکھا ہے۔ اور سب مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں۔ اگر میں ان سب کو گنانے لگا اور کسی کا نام بھولے سے بھی چھوٹ گیا تو ان کی دل شکنی ہوگی اور میں یہ نہیں کر سکتا، اس لیے ابھی اس سے معاف رکھیے۔

ڈاکٹر سجاد عالم رضوی :

آپ حضور مفتی اعظم ہند کے سفر و حضر میں ساتھ رہے، ان کے تعلق سے کچھ خاص بات بتائیں؟

حضرت فقیہ النفس :

 میں ابھی کیا کیا بتاؤں؟ اس کے لیے تو دفتر بھی نا کافی ہے۔ حضرت سید محمد مدنی میاں مدظلہ نے صحیح فرمایا ہے:

بخاری و مسلم کا سننے والا جس یقین و اذعان کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ ہم نے رسول کریم کے اقوال سنے، اس یقین و اذعان کے ساتھ حضور مفتی اعظم ہند کو دیکھنے والوں کو یہ حق ہے کہ کہے: ہم نے رسول کریم کی چلتی پھرتی سچی تصویر دیکھی۔

شاد عظیم آبادی کا یہ شعر یاد آ رہا ہے :

ہزا  مجمع خوبان ماہ رو ہوگا۔  نگاہ جس پہ ٹھہر جائے گی وہ تو ہوگا

مناظر اعظم ہندوستان، خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند، فقیہُ النفس، حضرت مفتی محمد مطیع الرحمٰن مضطر رضوی دام ظلہ سے ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی پرسیڈینسی یونیورسٹی کلکتہ کی خصوصی ملاقات میں حضرت کی حیاتِ مبارکہ، علمی و فقہی خدمات اور بصیرت افروز افکار پر ایک جامع اور معلوماتی انٹرویو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے